ملک افتخار حسین کی قیادت میں ضلع جہلم سے کثیر تعداد میں اساتذہ کرام کی تعلیم بچاو ریلی لاہور میں شرکت

Spread the love

کرونا ایس او پیز پر سب سے زیادہ موثر انداز پر عمل سکولز کررہے تھے تو پھر انھیں بند کرنا تعلیم دشمنی کے مترادف ہے۔ ملک افتخار حسین

جہلم (محمد زاہد خورشید) تعلیم بچاو ریلی لاہور کے لیئے ملک افتخار حسین کی قیادت میں ضلع جہلم سے کثیر تعداد میں اساتذہ کرام نے شرکت کی اور انھوں نے تعلیمی داروں کو کھولنے کے حوالے سے بینر اور پلے کارڈز اُٹھا رکھے تھے۔ تحصیل سوہاوہ دینہ جہلم اور پنڈدادن خان کی ریلیوں کی نمائندگی پروفیسر شریف ساجد , محمود احمد کیانی , محمد اشرف قاضی اور قاضی عبدالحفیظ کررہے تھے یہ تحصیلی ریلیاں آل پاکستان پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن ضلع جہلم کے صدر ملک افتخار حسین کی قیادت میں اکٹھی ہو کر لاہور ریلی میں ضلع جہلم کی جانب سے شریک ہوئیں۔ تعلیم بچاو احتجاجی ریلی سے ضلع جہلم کے پرائیویٹ سکولز کی نمائندگی کرتے ہوئے ملک افتخار حسین نے بھی خطاب کیا انھوں نے کہا کہ اسکولز کے بند ہونے کی وجہ سے پورے ملک میں دولاکھ سات ہزار اسکولز، پندرہ لاکھ اساتذہ اور ڈھائی کروڑ بچوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا گیا ہے، کرونا وائرس سے شدید متاثر ممالک نے اپنے اپنے تعلیمی اداروں کو کھول دیا ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے ابھی تک بند ہیں، ہم حکو مت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک بھر کے تعلیمی داروں کو مکمل SOPs کے ساتھ فوری طور پر کھولا جائے، تعلیمی ادارے بند کرنا آئین کے آرٹیکل 18 کی خلاف ورزی ہے، جس سے 5 کروڑ طلبہ کا تعلیمی نقصان ہو رہا ہے، جبکہ نوئے فیصد نجی تعلیمی ادارے کرایے کی عمارتوں میں ہیں، فیس جمع نہ ہونے کی وجہ سے ادارے کرایہ، یوٹیلیٹی بلز دینے کی حالت میں نہیں ہیں۔ اس احتجاجی ریلی میں ہزاروں افراد جن میں خصوصا” اساتذہ پرنسپل والدین نے خصوصی شرکت کی۔ احتجاج کے موقع پر دیگر شرکاء نے تقاریر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ہر شہری کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا آرٹیکل 25-A کے مطابق حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، لیکن حکومت کا بوجھ نجی تعلیمی اداروں نے اٹھایا ہوا ہے اور قوم کے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کر نے میں 40فیصد کردار ادا کر رہے ہیں، حکومت کے اعلان کردہ 12 سو ارب روپے میں سے نجی تعلیمی اداروں کے کرایے، یوٹیلیٹی بلز اور اساتذہ کی تنخواہوں کے لیے بھی حصہ مقرر کیا جائے۔کرونا ایس او پیز پر سب سے زیادہ موثر انداز پر عمل سکولز کررہے تھے تو پھر انھیں بند کرنا تعلیم دشمنی کے مترادف ہے۔ نجی تعلیمی ادارے 17 سے 24 قسم کے مختلف ٹیکس حکومت کو ادا کر رہے ہیں، نجی تعلیمی ادارے طلبہ کی فیسوں سے چلتے ہیں، اب فیسیں جمع نہیں ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے نجی تعلیمی ادارے بند ہو رہے ہیں، اساتذہ بے روز گار ہو رہے ہیں اور طلبہ کا مستقبل برباد ہو رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں