پاکستان ڈوب رھا ھے

Spread the love

۔ محمد طاھر شہزاد12 ستمبر 2020
[email protected]

پچھلے دنوں کراچی کے حالات نے چیخ چیخ کر پوری قوم کو بتانے کی کوشش کی کہ کراچی کے قاتل کوین ہیں ؟ کراچی کے وہی قاتل جنہوں نے اپنے آپنے مفادات کے لیے کراچی کو نوچ نوچ کر کھایا آج ایک بار پھر اسی لٹے پٹے کراچی کو 1100 ارب کے رلیف پیکج دینے کے کے نام پر بندر بانٹ کا حصہ بنے نظر آرھے ہیں ۔ مجھے نہیں امید جن درندوں نے کراچی کواس حال تک پہنچایا ھے انہی درندوں کے ھاتھ میں 1100 ارب کی رقم محفوظ جگہ استعمال ھو سکتی ھے ۔
آج کراچی جیسا سونے کے انڈے دینے والا شہر چار سیاسی پارٹیوں کے کراچی کے وسائل پر قبضے کی جنگ کی نذر ھو گیا ھے ۔ پیپلزپارٹی ، ایم کیو ایم ، پی ٹی آئی ، اور چوتھی اسٹیبلشمنٹ ۔
مزے کی بات ھے 2 سال انتظار کیا گیا صرف کراچی کے وسال کی بندر بانٹ میں حصے داروں کی کمی کی کوششوں کی صورت میں ۔ کراچی ڈوبتارھا مگر اسٹیبلشمنٹ سمیت سب حصے داران اسی کوشش میں مگن نظر آئیے کہ کراچی کے وسال کی بندر بانٹ میں دوسرے تمام حصے داروں کو نکال دیا جائے ۔ کبھی پیپلز پارٹی کواس دوڑ میں نکالنے کے لیے گورنر راج کی آواز اٹھائی گئی تو کبھی ایم کیو ایم کو کھڈے لائن لگانے کے لیے اقدامات کیے گئے ۔ کراچی ڈوبتارھا مگر کسی نے کراچی کی فکر نہیں کی بلکہ انتظار کیا گیا ایک فریق کے خود بخود باھر ھونے کا ۔ بل آخر وہ گھڑی آ ہی گئی جب ایم کیو ایم اپنی طبعی موت خود مر گئی ۔ ایم کیو ایم کے اس دوڑ سے باھر ھوتے ہی وزیر اعظم صاحب کراچی پہنچتے ہیں اور 1100 ارب کی بندر بانٹ کے فارمولے کا اعلان کرتے ہیں ،
اور تینوں بندر بانٹ کے پارٹنر بڑی خوش اسلوبی سے اپنے اپنے حصے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں ۔ جبکہ اس بندر بانٹ میں سب سے مزے کی بات یہ ھے کہ اس بندر بانٹ میں سب سے زیادہ وسائل پر قبضہ کی جنگ میں اسٹیبلشمنٹ کو ھی کامیابی حاصل ھوئی ھے ۔ بظاھر تو اس سارے پلان کے کپتان وزیر اعلی ہی ہیں مگر اصل میں اسٹیبلشمنٹ کے نامزد کردہ کردار کور کمانڈر کراچی ہی ہیں ۔ جبکہ مجھے اب یہ سمجھ نہیں آرہی کہ کیا اب اگر 3 سال میں کراچی پر 1100 ارب لگتا نظر نہ آیا تو اس کرپشن کے ذمے داران کون سے کردار ھونگے ؟
کیا جرنل باجوہ اور کور کمانڈر کراچی پر بھی کرپشن کا چارج لگ سکے گا یا ہمیشہ کی طرح سیاستدان ھی اس کرپشن کے بھی ذمے دار ھونگے اور کسی ادارے کو کور کمانڈر کراچی پر ھاتھ ڈالنے کی اجاذت نہیں ھوگی ؟
جبکہ یہ بھی حقیقت ھے کہ پاکستان کے تباہ ھونے کی اصل وجہ پاکستان کے وسائل پر قبضے کی جنگ ھی ھے ؟
بلوچستان میں اس جنگ نے آج بلوچستان کو سب سے پیچھے دھکیل دیا ھے مگر قبضہ کرنے والے خوش ہیں کہ بلوچستان کے واسال پر ان کا قبضہ ھے ۔
جبکہ اب آہستہ آہستہ انہی فرشتوں کی کراچی کے وسائل پر بھی قبضہ کی گرفت بھی مضبوط سے مضبوط تر ھوتی جا رہی ھے مگر کراچی ڈوبتا جارھا ھے اور آگے بھی یہی حال رھاتو کراچی بھی بلوچستان کے برابر کھڑا نظر آئے گا ۔ جبکہ میرا نہیں خیال کہ کراچی کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اتنی زیادہ سیاسی پارٹیوں میں تقسیم کر کے کراچی کی کوئی خدمت کی گئی ھے ، سوائے اس کے کہ کراچی کے وسائل پر قبضے کی جنگ جیتی جاسکے ۔
مجھے نہیں لگتا کہ اگلا حدف لاھور یا پنجاب نہیں ھے ۔ جبکہ پنجاب میں بھی اسی پلاننگ کے تحت جال ڈال دیا گیا ھے اور مجھے نہیں لگتا کہ اگلے چند سال تک پنجاب خصوصا لاھور کا بھی حال کراچی سے مختلف نہیں ھو گا ۔
آج باقاعدہ منصوبہ بندی سے پنجاب میں بھی ایسے کرداروں کو پروموٹ کیا جا رھا ھے جن کا ماضی داغدار ھے ۔ جبکہ ہماری عدلیہ تو پہلے ہی گھنگھرو باندھے اپنے رقص کی صلاحتیں دکھانے کے لیے تیار بیٹھی نظر آتی ھے ۔ ہمارے قاضیوں کو تو بس ڈھول کی تھاپ کا انتظار ھوتا ھے اور فضا گھنگروؤں کی پر سوز آوازوں سے گونجنے لگتا ھے ۔
نقشے دکھا کر کشمیر کی جنگ جیتنے کے خواب دیکھنےوالے یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ کبھی بنگلہ دیش بھی پاکستان کے نقشے میں شامل تھا ،
آج ہمارے ملک میں محکمہ زراعت نے اتنی ترقی کر لی ھے کہ ملک کا طاقتور ترین بظاھر سول اداہ بن کر سامنے آیا ھے ۔ حریم شاہ اور سنتیھا رچی جیسی سنڈیوں کی کلوننگ پر تو محکمہ زراعت کی محنت قابل رشک ھے ہی مگر اب مجھے لگتا ھے کہ محکمہ ہیلتھ پر بھی فرشتوں کا مکمل قبضہ ھے ۔ موت کے فرشتے بھی صرف انہی کی روح قبض کرنے پہنچتے ہیں جن کی جنگ آئین کی بالا دستی کے لیے جاری ھو ۔
مولانا نورانی ھوں یا عاصمہ جہانگیر جیسی آئین کی بالادستی کی خاطر سیسہ پلائی دیوار بنی بہادر خاتون ھوں یا میر حاصل خان بزنجو جیسے آئین کی بالا دستی کے لیے کھڑے مضبوط ستوں ھوں سب اپنے ملک کے ہیلتھ نظام پر مکمل بھروسا کرنے والے تو اس جہان فانی سے کوچ کر جاتے ہوں اور میاں نواز شریف جیسے جن کی سانسیں چند دنوں کی مہمان ھوں جب تک اپنے ملک کے ہیلتھ نظام کے مرحون منت ھوں تو چند گھنٹوں کی سانسوں کے مہمان تصور کیے جاتے ہوں مگر بیرون ملک علاج کی صورت میں وہی چند گھنٹوں کے مہمان حشاش بشاش کیسے نظر آنے لگتے ہیں ؟ مجھے تو پچھلے چند سالوں کے اعدادوشمار نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ھے ۔ آئین کی بالا دستی کی جنگ لڑنے والے کبھی تو دھشتگردی کے ھاتھوں مارے جاتے ہیں تو کہیں اپنے ملک کے ہسپتالوں میں ؟ میں پہلے سمجھتا تھا کہ اپنے ملک کی بجائے باھر سے علاج کروانے والے اپنے ملک سے پیار نہیں کرتے مگر آج میاں نواز شریف کے کیس اور رپورٹس کو دیکھ کر لگتا ھے کہ سیاست دانوں کی مجبوری ھے باھر سے علاج کروانا ۔ آج پاکستان کے تمام اداروں اور وسائل پر قبضے کی جنگ نے پاکستان کو کھوکھلا کر دیا ھے ۔ جو تھوڑے بہت وسائل بچے ہیں پاکستان کے آج ان پر قبضے کی جنگ جاری ھے ۔ جیت تو فرشتوں کے نصیب میں ھی لکھی ھے شائید مگر پاکستان کے مقدر میں شائید موت ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں