وزیر آباد (نامہ نگار) مسلم لیگ ن کے سینئر راہنما اور چیئرمین چیف منسٹر ڈائریکٹوریٹ آف ایویلوایشن، فیڈبیک، انسپکشن اینڈ مانیٹرنگ، بریگیڈیئر (ر) بابر علاؤلدین نے 26ویں آئینی ترمیم کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ترمیم ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسلم لیگ سوہدرہ کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا، جس کی قیادت مقامی مسلم لیگی راہنما حاجی دلشاد حسین کر رہے تھے۔بریگیڈیئر(ر) بابر علاؤلدین نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کی سب سے بڑی صفت مخصوص علیحدہ آئینی بنچ کا قیام ہے، جس سے عوام کے زیر التوا مقدمات کے لیے سپریم کورٹ کا بوجھ کم ہو جائے گا۔ اس کے نتیجے میں عام آدمی کے مقدمات میں فوری انصاف کی فراہمی کا معیار بہتر ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس ترمیم کے ذریعے اداروں میں اختیارات کا توازن بھی قائم کیا جائے گا، تاکہ ہر ادارہ اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طور پر نبھا سکے اور ایک دوسرے کے کاموں میں مداخلت نہ کرے۔انہوں نے کہا کہ یہ آئینی ترمیم عوام کے مفاد میں ہے اور اس سے آئینی و قانونی ڈھانچے کو مضبوطی ملے گی۔ یہ ترمیم پاکستان کی تمام جماعتوں کی حمایت حاصل کر چکی ہے، جو کہ حکومت کی بڑی کامیابی ہے۔ تاہم، پی ٹی آئی نے اس کی مخالفت کی ہے اور اپنے ”نہ مانوں ” کی پالیسی پر قائم ہے، حالانکہ وہ کسی نہ کسی شکل میں اس ترمیم سے اتفاق کر چکے تھے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پی ٹی آئی شاید اس اہم قومی مسئلے پر کوئی بڑی ڈیل چاہتے تھے، جسے مسترد کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ترمیم جمہوری اصولوں کو تقویت دے گی اور آئین میں موجود بعض ابہامات کو ختم کرے گی، جس سے عوام کو فوری اور سستا انصاف مل سکے گا۔ انہوں نے نئے چیف جسٹس کی حالیہ تعیناتی کو بھی آئین کے استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ اس سے عدلیہ میں شفافیت اور کارکردگی میں بہتری آئے گی، اور یہ ترمیم نئے چیف جسٹس کی تعیناتی کے طریقہ کار کو شفاف اور سب کے لیے قابلِ قبول بنانے میں بھی مدد فراہم کرے گی۔آخر میں انہوں نے زور دیا کہ 26ویں آئینی ترمیم کو سیاسی تنازعات کا شکار بنانے کی کوششیں قومی مفاد کے منافی ہیں اور یہ ترمیم ملک کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
