سیاستدانوں نے 70ء اور 77ء جیسے حالات پیدا کرنا شروع کردئیے ہیں,ملک الطاف حسین

Spread the love

جیکب آباد(نامہ نگار) پاکستان پرچم پارٹی کے چیئرمین ملک الطاف حسین نے کہا ہے کہ سیاستدانوں نے 70ء اور 77ء جیسے حالات پیدا کرنا شروع کردئیے ہیں، بااختیار قوتوں کو مشکل مگر ضروری فیصلے کرنا ہونگے، موجودہ سیاسی بحران کا حل ”نگران سیٹ اپ“ ہے۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے زیادہ شفاف انتخابات 1970ء میں کروائے گئے تھے لیکن مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی نے ایک دوسرے کو ماننے سے انکار کردیا جس کے نتیجے میں انتقال اقتدار نہ ہوسکا اور مشرقی پاکستان میں سول نافرمانی کی تحریک چل گئی جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے روس کی حمایت سے مشرقی پاکستان پر حملہ کردیا اور مشرقی پاکستان بنگلادیش بن گیا جس کے بعد 1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے انتخابات کرائے تو پاکستان قومی اتحاد (پی این اے) نے ان انتخابات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے تحریک شروع کردی جس کے نتیجے میں ضیاء الحق کا مارشل لاء لگ گیا اور ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دیدی گئی، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اس 52سالہ سیاسی تاریخ سے کسی وزیراعظم یا سیاستدان نے کوئی سبق نہیں سیکھا اور آج 2022ء میں ایک بار پھر ہوس اقتدار میں ڈوبے سیاستدانوں نے 70ء اور 77ء جیسے حالات پیدا کرنا شروع کردئیے ہیں یہ الگ بات ہے کہ خوش قسمتی سے آج روالپنڈی میں جنرل یحییٰ خان اور جنرل مشرف جیسا کوئی جنرل نہیں ہے ورنہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف اپنی حماقتوں اور ہوس حکمرانی میں مبتلا جس طرح سے جلتی پر تیل کا کام کررہی ہیں اس سے بہت کچھ راکھ ہوجاتا۔انہوں نے کہا کہ انہونی تو یہ ہے کہ وفاقی اور سندھ حکومتوں نے ایک دوسرے کے خلاف لانگ مارچ کئے جس میں وزراء شامل تھے اور دونوں نے ثابت کردیا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور مرکز میں تحریک انصاف کی حکومتیں ناکام اور نااہل ہیں انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری اور عمران خان ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمن کی تاریخ دہرانے کی کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک اور قوم کے مستقل اور وسیع تر مفاد میں ”بااختیار قوتوں“ کو مشکل مگر ضروری فیصلے کرنا ہونگے جس کے لیے پہلے مرحلے میں نام نہاد جمہوری سیٹ اپ جو کرپٹ مافیا اور نااہل حکمرانوں کا محافظ ہے اسے لپیٹتے ہوئے 3سال کے لیے نگران سیٹ اپ قائم کرکے دوسرے مرحلے میں بے رحم احتساب کے بعد شفاف انتخابات کرائے جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں