وزیرآباد(نامہ نگار) مویشی ہسپتال میں ڈاکٹرز و عملہ کی موجیں، قصائیوں سے بھاری نذرانے وصول کر کے سلاٹر ہاؤس میں ذبیحہ برائے نام رہ گئے،جگہ جگہ خود ساختہ سلاٹرنگ،جعلی مہریں لگا کر قریب المرگ بیمار ولاغر جانوروں کے ذبح کیے جانے کا انکشاف انتظامیہ نے بھی انسپیکشن معطل کر کے شہریوں کو بے رحم قصائیوں اور راشی افسران کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا،الزامات بے بنیاد خبر کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ایڈہشنل ڈائریکٹر لائیو سٹاک کا موقف وزیرآباد میں بیمار و لاغر جانوروں کے ذبح کیے جانے کا انکشاف ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مویشی ہسپتال کے عملہ جو کہ محکمہ لائیو سٹاک کا وزیرآباد میں ضلعی آفس ہے یہاں پر موجود ڈاکٹرز روزانہ کی بنیاد پر سلاٹر ہاؤس کو چیک کرنے اور جانوروں کے فزیکل معائنہ کے بعد ذبح کی اجازت دینے کے پابند ہیں لیکن لائیو سٹاک عملہ کا افسران سمیت ہسپتال اور فیلڈ سے غیر حاضر رہنا معمول بن چکا ہے اور ماتحت عملہ کو فون پر احکامات دے کر کام چلایا جا رہا ہے جبکہ سلاٹر ہاؤس کی انسپیکشن کے لیے بھی کاغذی کاروائی کو اختیار جاتا ہے اور قصائیوں سے مبینہ طور پر نذرانے وصول کر کے قریب المرگ و لاغر جانوروں کو ذبح کیا جا رہا ہے شہر میں بیمار گوشت کے فروخت کی باتیں زبان زد عام ہیں مقامی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بھی سلاٹر ہاؤس کی انسپیکشن پر توجہ نہ ہونے کے برابر ہے مقامی قصاب انسپکٹر لائیو سٹاک کی مبینہ ملی بھگت سے خود ساختہ بنائے گئے سلاٹر ہاؤسز میں جانور ذبح کر کے جعلی مہریں لگا کر گوشت کی فروخت کر رہے ہیں شہریوں کو لاغر و بیمار جانوروں کو فروخت کر کے بیچنے والے قصائیوں کے سپرد کر دیا گیا ہے شہریوں نے ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ/وزیرآباد سے صورتحال پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے دوسری جانب ایڈیشنل ڈائریکٹر وزیرآباد محمد احمد نے خبر کو من گھڑت و محض الزام قرار دیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں
مزید پڑھیں
